Our five-pronged approach focuses on your individual strengths to develop your unique qualities towards making you an exemplary pi- designer.
25/08/2026
share
آج کل، "chicken road game" ایک خطرناک اور غیر قانونی سرگرمی کے طور پر سامنے آئی ہے جو نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہ کھیل سڑک پر گاڑیوں کے درمیان دوڑنے یا جان بوجھ کر ان سے ٹکرانے سے متعلق ہے۔ اس کھیل میں حصہ لینے والے نوجوان اپنی جان کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔
اس کھیل کی مقبولیت کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز کا پھیلاؤ، شہرت حاصل کرنے کی خواہش، اور اندیشہ نہ کرنا شامل ہے۔ تاہم، اس کھیل کے نتائج ناقابل معافی ہو سکتے ہیں، جس میں سنگین زخمی، معذوری، اور موت بھی شامل ہے۔ ہمیں اس خطرناک رجحان کو روکنے اور نوجوانوں کو اس کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
چکن روڈ گیم، جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ وارانہ عمل ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر خاص طور پر ٹِک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز پر گردش کر رہا ہے۔ یہ کھیل بنیادی طور پر نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور ان میں شہرت حاصل کرنے کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔ نوجوان اکثر اس کھیل کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسے انجام دینے کے لیے ایک دوسرے کو اکساتے ہیں۔ اس کھیل میں، افراد تیز رفتار سڑکوں پر بوجھ کر دوڑتے ہیں یا گاڑیوں کے قریب آتے ہیں، جس سے ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
اس کھیل کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کو یہ لگتا ہے کہ یہ ایک مضحکہ خیز اور تفریحی عمل ہے۔ وہ اس کھیل کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے اور زیادہ سے زیادہ لائیکس اور فالوورز حاصل کرنے کے لیے انجام دیتے ہیں۔ تاہم، ان نوجوانوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا یہ عمل نہ صرف ان کی اپنی جان کے لیے خطرناک ہے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کھیل کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے چکن روڈ گیم کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کھیل کی ویڈیوز کو لاکھوں بار دیکھا گیا ہے اور ہزاروں افراد نے اسے شیئر کیا ہے۔ اس سے نوجوانوں میں اس کھیل کے بارے میں آگاہی بڑھی ہے اور انہوں نے اسے انجام دینے کی ترغیب حاصل کی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ان ویڈیوز کو حذف کرنا چاہیے جو اس خطرناک کھیل کو فروغ دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر چیلنجوں اور ٹرینڈز کی مقبولیت نے بھی اس کھیل کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔ نوجوان اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چیلنجوں میں حصہ لیتے ہیں تاکہ وہ مقبول ہو سکیں۔ چکن روڈ گیم بھی ایک چیلنج کے طور پر شروع ہوا تھا اور نوجوانوں نے اسے انجام دینے کے لیے ایک دوسرے کو چیلنج کیا تھا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے چیلنجوں کی نگرانی کرنی چاہیے جو خطرناک ہیں اور ان پر پابندی لگانی چاہیے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چکن روڈ گیم کے باعث ہونے والے حادثات میں گزشتہ دو سالوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
چکن روڈ گیم کے خطرات بے شمار ہیں اور یہ نہ صرف کھیل کھیلنے والے افراد کے لیے بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کھیل میں حصہ لینے والے افراد کو گاڑیوں سے ٹکرانے، زخمی ہونے، یا موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کھیل کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چکن روڈ گیم ایک غیر قانونی عمل بھی ہے اور اس میں حصہ لینے والے افراد کو قانون کے مطابق سزائیں بھگتنی پڑ سکتی ہیں۔
قانونی طور پر دیکھا جائے تو، چکن روڈ گیم پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کو قید اور جرمانہ دونوں کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اس کھیل میں حصہ لینے والے افراد کو راہداریوں کی خرابی اور سڑک پر غیر ضروری خطرہ پیدا کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون enforcement ایجنسیوں کو اس کھیل کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور اس میں ملوث افراد کو گرفتار کرنا چاہیے۔
چکن روڈ گیم کے معاشی اور سماجی اثرات بھی انتہائی منفی ہیں۔ اس کھیل کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کو طویل عرصے تک علاج کروانا پڑتا ہے، جس سے ان پر اور ان کے خاندانوں پر مالی بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کھیل کی وجہ سے موت کا سامنا کرنے والے افراد کے خاندانوں کو شدید صدمہ اور غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چکن روڈ گیم سماج میں تشدد اور نافرمانی کی نشوونما کو بھی فروغ دیتا ہے۔
حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ اس کھیل کے معاشی اور سماجی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے، زخمی ہونے والے افراد کو طبی اور مالی مدد فراہم کی जानी چاہیے اور موت کا سامنا کرنے والے افراد کے خاندانوں کو معاوضہ دیا جانا چاہیے۔
ان اقدامات سے چکن روڈ گیم کو روکنے اور نوجوانوں کی جانوں کو بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
چکن روڈ گیم ایک خطرناک کھیل ہے اور اس سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اس کھیل کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے اور انہیں اس میں حصہ لینے سے روکنا چاہیے۔ والدین اور اساتذہ کو بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھनी چاہیے اور انہیں اس کھیل کے بارے میں بات چیت کرنی چاہیے۔ قانونی enforcement ایجنسیوں کو اس کھیل کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
اس کھیل سے بچنے کے لیے، نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس کھیل کی ویڈیوز دیکھنے سے گریز کریں اور اس کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو اس کھیل کے خطرات سے آگاہ کریں اور انہیں اس میں حصہ لینے سے روکیں। اس کے علاوہ، انہیں چاہیے کہ وہ سڑک پر گاڑیوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور محفوظ طریقے سے چلیں۔
چکن روڈ گیم سے بچنے کے لیے سب سے اہم قدم آگہی اور تعلیم کا کردار ہے۔ نوجوانوں کو اس کھیل کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔
ان سیمینارز اور ورکشاپس میں، نوجوانوں کو اس کھیل کے نتائج کے بارے میں بتایا جانا چاہیے۔ انہیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ اس کھیل میں حصہ لینے سے ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ اس کھیل کی وجہ سے ان کے خاندانوں اور دوستوں کو بھی غم اور صدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان اقدامات سے نوجوانوں کو اس کھیل سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
چکن روڈ گیم کے متاثرین کو طبی، نفسیاتی، اور مالی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو افراد اس کھیل میں زخمی ہوئے ہیں انہیں طبی علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ان افراد کو نفسیاتی مشاورت فراہم کرنے سے انہیں صدمے سے نکلنے اور زندگی کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، چکن روڈ گیم میں موت کا سامنا کرنے والے افراد کے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ ان خاندانوں کو معاوضہ دینے سے انہیں مالی بوجھ سے نجات مل سکتی ہے اور وہ اپنی زندگی کو دوبارہ استوار کر سکتے ہیں۔
خطرناک رویوں جیسے چکن روڈ گیم کو روکنے کے لیے سماجی ذمہ داری کا احساس ہونا ضروری ہے۔ ہمیں ایک ایسا سماج بنانے کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کو محفوظ اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع ملیں۔ اس کے لیے، حکومت، سول سوسائٹی، والدین، اساتذہ، اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
مستقبل میں، ہمیں نوجوانوں کو اس طرح کی خطرناک سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے کھیلوں کے میدانوں، تفریحی مراکز، اور ثقافتی تقریبات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، ان کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے بھی ان کو بہتر مستقبل حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
Stories
What is Interior Architecture & Design?
Did you know that we spend about 90% of our time indoors! We use the built environment, especially interior spaces,…
Learning About the Business of Fashion
Overview: This blog emphasizes that fashion design is much more than creating garments. It is basically about understanding cultures and…
Photography for Beginners: The Bigger Picture of Taking a Picture
The digital age has allowed photography to boom like never before. It’s a massive, commercial industry which is growing explosively…
Design Thinking: Making D-School the New B-School
One of the most exciting aspects of my job is interacting with design aspirants. I love their enthusiasm and their…
Why Good Design is Good Business
Thomas Watson Junior. This quote is often attributed to Thomas Watson Jr., the son of Thomas Watson, the founder of…
enquiry form